ابنا: فلسطینی خبر رساں ایجنسی الان کی رپورٹ کے مطابق جنین عرب - امریکا یونیورسٹی کے طلباء نے اتوار کو فلسطینی انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل سے مذاکرات کرنے والے صائب عریقات کے خلاف اس وقت نعرے لگائے جب وہ اس یونیورسٹی میں تقریر کر رہے تھے۔ طلباء نے فلسطینی انتظامیہ اور صیہونی حکومت کے درمیان سازشی مذاکرات روکنے کا مطالبہ کیا۔فلسطینی طلباء کا کہنا تھا کہ جب تک صیہونی حکومت فلسطینوں کو شہید، انہیں بے گھر کرنے، اسیر بنانے اور مہاجرت پر مجبور کر رہی ہے اور غزہ کے شہریوں کو دکھوں میں اضافہ کر رہی ہے، اس حکومت سے نمٹنے کا واحد راستہ قومی اتحاد اور مزاحمت ہے۔ فلسطینی طلباء نے تاکید کی کہ عریقات اور فلسطینی انتظامیہ، فلسطینوں کی آزادی اور ان کے اتحاد کو اپنے اہداف پر قربان نہیں کر سکتے، صیہونی حکومت اور مغرب کے ساتھ مذاکرات بے معنی ہیں اور اس سے ملت فلسطین کو ان کے حقوق حاصل نہیں ہوں گے۔واضح رہے کہ صیہونی حکومت کی جانب سے مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں صیہونی کالونیوں کی تعمیر جاری رہنے کی وجہ سے تقریبا تین سالوں تک سازشی مذاکرات کے تعطل کا شکار رہنے کے بعد اس سال جولائی کے آخر میں واشنگٹن میں پھر شروع ہوئے۔ اب تک فلسطین میں کئی مرحلوں کے مذاکرات ہو چکے ہیں تاہم فلسطینی قوم کو کوئی فائدہ ہونے کے بجائے اس کے خلاف صیہونی حکومت کے جرائم میں اضافہ ہی ہوا ہے۔......./169
1 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 485329
مغربی کنارے میں جنین عرب - امریکا یونیورسٹی کے فلسطین طلباء نے اسرائیل کے ساتھ سازشی مذاکرات کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔